السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الاحتماء باب: پرہیز (بیماری میں احتیاط) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19563
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفِ بْنِ أَحْمَدَ الصُّوفِيُّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرًا وَبَيْنَ يَدَيْهِ التَّمْرُ فَقَالَ: " تَعَالَ كُلْ ". قَالَ: فَجَعَلْتُ آكُلُ التَّمْرَ، قَالَ: " تَأْكُلُ التَّمْرَ وَبِكَ رَمَدٌ؟ " قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَمْضُغُهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى. قَالَ: فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
عبد الحمید بن زیاد بن صہیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس ہجرت کر کے آیا تو آپ ﷺ کے سامنے کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ کھاؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے کھجوریں کھانی شروع کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھجوریں کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھیں خراب ہیں؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔