السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذكاة ما في بطن الذبيحة باب: ذبح کیے گئے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19490
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدُنَا يَنْحَرُ النَّاقَةَ وَيَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ وَفِي بَطْنِهَا الْجَنِينُ أَيُلْقِيهِ أَمْ يَأْكُلُهُ؟ فَقَالَ: " كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اونٹ اور گائے، جس کے پیٹ میں بچہ ہو، کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹنی یا گائے کو ذبح کرنا، یہ اس کے بچے کا ذبح کرنا شمار کرلیا جائے گا۔“