السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذكاة ما في بطن الذبيحة باب: ذبح کیے گئے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19489
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ فَقَالَ: " كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اونٹنی، گائے یا بکری ذبح کرتے ہیں جس کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے، کیا ہم اس بچے کو کھا لیں یا اسے گرا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اسے کھا لو، کیونکہ بچے کی ماں کا ذبح کرنا ہی بچے کو ذبح کرنے میں شمار کر لیا جائے گا۔“