السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أكل لحوم الحمر الأهلية باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
وَشَاهِدُهُ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٥٧⦘ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رَوْبَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ - يَعْنِي وَمِثْلَهُ - يُوشِكُ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ هَذَا الْكِتَابُ، فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ، أَلَا لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ، وَلَا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ ".سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں قرآن اور اس کی مثل دیا گیا ہوں۔ قریب ہے کوئی پیٹ بھر کر اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ کافی ہے، جو اس میں حلال ہے ہم اس کو حلال جانیں گے اور جو اس میں حرام ہے ہم اس کو حرام جانیں گے۔ حالانکہ بات اس طرح نہیں۔ خبردار! کچلی والے جانور اور گھریلو گدھے کھانے جائز نہیں۔ معاہد آدمی کی گری ہوئی چیز، مگر جس سے وہ بے پروا ہو جائے، جائز نہیں ہے۔ جس شخص نے مہمانی طلب کی لیکن اس کی مہمان نوازی نہ کی گئی، تو وہ اپنی مہمان نوازی کے برابر کوئی چیز لے سکتا ہے۔“