السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما روي في القنفذ وحشرات الأرض باب: ساہی اور زمین کے حشرات (کیڑے مکوڑوں) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19432
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٥٤٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِضَبٍّ وَقُنْفُذٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُ وَلَمْ يَأْكُلْ. هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، ثُمَّ هَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى التَّحْرِيمِ، وَكَأَنَّهُ عَافَهُ كَمَا عَافَ الضَّبَّ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حفید رضی اللہ عنہا گوہ اور سیہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے ان پر ہاتھ رکھ کر اٹھا لیا اور آگے سے ہٹا دیا، کھایا نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو ایسے ہی ہے جیسے نبی ﷺ نے گوہ کو نہیں کھایا، ایسے ہی سیہ کو بھی نہیں کھایا۔