السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19427
أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لَنَا ضَبٌّ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُطْعِمُهُ السُّؤَّالَ؟ فَقَالَ: إِنَّا لَا نُطْعِمُهُمْ مِمَّا لَا نَأْكُلُ ". وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ فِي مَعْنَى مَا تَقَدَّمَ مِنَ امْتِنَاعِهِ مِنْ أَكْلِهِ، ثُمَّ فِيهِ أَنَّهُ اسْتَحَبَّ أَنْ لَا يُطْعِمَ الْمَسَاكِينَ مِمَّا لَا يَأْكُلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوہ تحفہ میں دی گئی، جو میں نے نبی ﷺ کے سامنے پیش کی تو آپ ﷺ نے نہ کھائی۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم مانگنے والے کو دے دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو خود ہم نہیں کھاتے ان کو بھی نہ کھلائیں گے۔“
نوٹ: انسان جو چیز خود کھانا پسند نہیں کرتا وہ مساکین کو بھی نہ کھلائے۔