السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي فِي حَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي. فَسَكَتَ عَنْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ فَسَكَتَ عَنْهُ، ثُمَّ قُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: " يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَضِبَ عَلَى سِبْطَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابًّا يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَعْضُهَا، وَلَسْتُ بِنَاهِيكَ عَنْهَا وَلَا آمِرِكَ بِهَا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، وَقَالَ: فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا.سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں ایسے باغ میں رہتا ہوں جہاں گوہ پائی جاتی ہے اور یہ میرے گھر والوں کا کھانا بھی ہے، تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے دیہاتی! اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر غضب نازل کیا تو زمین پر چلنے والے چوپائے یا جانوروں کی شکلیں تبدیل کر دیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے ہے، نہ تو میں تمہیں اس کے کھانے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی منع کرتا ہوں۔“
(ب) ابوعقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تو میں کھاتا ہوں اور نہ تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔“