السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19421
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا بِأَرْضٍ ⦗٥٤٥⦘ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابًّا، وَلَا أَدْرِي أِيُّ الدَّوَابِّ هِيَ ". فَلَمْ يَأْمُرْهُ وَلَمْ يَنْهَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ہم گوہ کے علاقے میں رہتے ہیں، آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کے چوپائے مسخ کیے گئے تھے، مجھے معلوم نہیں یہ کون سا جانور ہے۔“ نہ تو آپ ﷺ نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا۔