السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19419
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ قَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الْأُولَى الَّتِي مُسِخَتْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. فَهَذَا مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي أَنَّهُ امْتَنَعَ مِنْ أَكْلِهِ وَزَادَ عَلَيْهِمَا فِي حِكَايَةِ عِلَّةِ الِامْتِنَاعِ عِلَّةً أُخْرَى لِلِامْتِنَاعِ سِوَى التَّقَذُّرِ، وَزَادَ عَلَيْهِ مَا يَدُلُّ عَلَى الْإِبَاحَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس گوہ لائی گئی جسے آپ ﷺ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں شاید کہ یہ پہلی امتوں میں سے ہے جو مسخ کی گئی تھی۔“
(ب) یہ حدیث سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی احادیث کی طرح ہے کہ آپ ﷺ نے اسے کھانے سے پرہیز کیا، اور اس میں ناپسندیدگی کے علاوہ پرہیز کی ایک اور وجہ بیان ہوئی ہے، اور اس میں ایسی بات بھی زائد ہے جو اس کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔