حدیث نمبر: 19416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: دُعِينَا لِعُرْسٍ بِالْمَدِينَةِ فَقُرِّبَ إِلَيْنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قُرِّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَمِنْ آكِلٍ وَتَارِكٍ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: تَزَوَّجَ فُلَانٌ فَقُرِّبَ إِلَيْنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قُرِّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَمِنْ آكِلٍ وَتَارِكٍ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَ مَا تَقُولُونَ، مَا بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحَلِّلًا وَمُحَرِّمًا، قُرِّبَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، فَمَدَّ يَدَهُ لِيَأْكُلَ فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ: " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ فَكُلُوا ". قَالَ: فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

شیبانی، یزید بن اصم سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ میں شادی کے موقع پر ہمیں کھانا دیا گیا جو ہم نے کھایا، اس کے بعد ہمارے سامنے تیرہ گوہ پیش کی گئیں، بعض نے کھا لیں اور بعض نے چھوڑ دیں۔ صبح کے وقت میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر پوچھا کہ کھانے کے بعد ہمارے سامنے تیرہ گوہ پیش کی گئیں تو بعض نے کھا لیں اور بعض نے چھوڑ دیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے کسی شخص نے یہ بات کہی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”میں کھاتا تو نہیں لیکن حرام بھی نہیں قرار دیتا، اس کے کھانے کا حکم بھی نہیں دیتا اور منع بھی نہیں کرتا۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: برا ہے جو تم کہتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حلال و حرام بھیجا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے گوہ کا گوشت پیش کیا گیا، جسے کھانے کے لیے آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ گوہ کا گوشت ہے۔“ تو آپ ﷺ نے ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: ”میں نے اس گوشت کو کبھی نہیں کھایا، تم کھا لو۔“ تو فضل بن عباس اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ موجود ایک عورت نے کھا لیا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جو کھانا رسول اللہ ﷺ نے نہیں کھایا میں نے بھی نہیں کھایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19416
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»