السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الأرنب باب: خرگوش کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأَرْنَبِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَوْ أَنْقُصَ مِنْهُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَأُرْسِلُ إِلَى مَنْ شَهِدَ ذَلِكَ. فَأَرْسَلَ إِلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: حَدِّثْ هَؤُلَاءِ حَدِيثَ الْأَرْنَبِ. فَقَالَ عَمَّارٌ: أَهْدَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْنَبًا مَشْوِيَّةً فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهَا وَلَمْ يَأْكُلْ، وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ فَلَمْ يَأْكُلْ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: صَوْمُ مَاذَا؟ فَقَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَلَا جَعَلْتَهُنَّ الْبِيضَ "؟ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ "..ابن حوتکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خرگوش کے بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگے: میں حدیث کے اندر کمی یا زیادتی نہ کر بیٹھوں، تو انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی جانب (پیغام) بھیجا کہ انہیں خرگوش والی حدیث سناؤ۔ عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو بھنا ہوا خرگوش تحفہ میں دیا۔ آپ ﷺ نے ہمیں کھانے کا حکم دیا اور خود نہ کھایا اور ایک آدمی نے بھی نہ کھایا، جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: میں روزے دار ہوں۔ پوچھا گیا: کون سا روزہ رکھا ہوا ہے؟ اس نے کہا: ہر مہینے کے تین روزے رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ایامِ بیض کے روزے نہیں رکھتا؟“ ایک دیہاتی نے کہا: میں نے خرگوش کے ساتھ خون دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“