حدیث نمبر: 19393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ عَفَّانُ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ فِيهِ: قُلْتُ: أَكَلَهَا؟ قَالَ: قَبِلَهَا.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم نے مرّ الظہران نامی جگہ سے بھگایا تو لوگ دوڑتے ہوئے تھک گئے۔ میں اسے لے کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جنہوں نے ذبح کر کے اس کے بازو اور رانیں نبی ﷺ کی طرف بھیج دیں جو آپ ﷺ نے قبول فرمائیں۔ (ب) عفان، شعبہ سے نقل فرماتے ہیں، جس میں ہے کہ میں نے پوچھا: کیا آپ ﷺ نے کھایا تھا؟ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے قبول کیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19393
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»