السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضبع والثعلب باب: بجو اور لومڑی کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19383
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ ⦗٥٣٥⦘ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آكُلُ الضَّبُعَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَسَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ..حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی عمار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا بجو کھایا جاتا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ تو وہ کہنے لگے: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ فرماتے ہیں: ”ہاں۔“