❮
❯
حدیث نمبر: 19382
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَا تَقْتُلُوا الضَّفَادِعَ فَإِنَّ نَقِيقَهَا تَسْبِيحٌ، وَلَا تَقْتُلُوا الْخُفَّاشَ فَإِنَّهُ لَمَّا خَرِبَ بَيْتُ الْمَقْدِسِ قَالَ: يَا رَبِّ سَلِّطْنِي عَلَى الْبَحْرِ حَتَّى أُغْرِقَهُمْ. فَهَذَانِ مَوْقُوفَانِ فِي الْخُفَّاشِ وَإِسْنَادُهُمَا صَحِيحٌ فَالَّذِي أَمَرَ بِقَتْلِهِ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ يَحْرُمُ أَكْلُهُ، إِذْ لَوْ كَانَ حَلَالًا لَمَا أَمَرَ بِقَتْلِهِ فِي الْحَرَمِ وَلَا فِي الْإِحْرَامِ، وَقَدْ نَهَى الله عَنْ قَتْلِ الصَّيْدِ فِي الْإِحْرَامِ، وَالَّذِي نَهَى عَنْ قَتْلِهِ يَحْرُمُ أَكْلُهُ إِذْ لَوْ كَانَ حَلَالًا أَمَرَ بِذَبْحِهِ وَلَمَا نَهَى عَنْهُ وَلَمَا نَهَى عَنْ قَتْلِهِ كَمَا لَمْ يَنْهَ عَنْ قَتْلِ مَا يَحِلُّ ذَبْحُهُ وَأَكْلُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”تم مینڈکوں کو قتل نہ کرو، کیونکہ ان کی آواز میں تسبیح ہے اور تم چمگادڑ کو قتل نہ کرو، کیونکہ جب بیت المقدس کی بربادی ہوئی تو اس نے کہا تھا: اے میرے رب! مجھے سمندر پر غلبہ دے یہاں تک کہ میں ان لوگوں کو غرق کر دوں۔“ یہ دونوں روایات چمگادڑ کے بارے میں موقوف ہیں اور ان کی سند صحیح ہے۔ پس جس جانور کے قتل کا نبی کریم ﷺ نے حل و حرم میں حکم دیا اس کا کھانا حرام ہے، کیونکہ اگر یہ حلال ہوتا تو نبی کریم ﷺ حرم میں اور احرام کی حالت میں اس کے قتل کا حکم نہ دیتے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے احرام میں شکار کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ اور جس جانور کے قتل سے نبی کریم ﷺ نے منع کیا اس کا کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ اگر یہ حلال ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس کو ذبح کرنے کا حکم دیتے اور اس کے قتل سے منع نہ کرتے، جیسا کہ جس کا ذبح کرنا اور کھانا جائز ہے اس کے قتل سے نبی کریم ﷺ نے منع نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19382
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»