السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يكره أن يتكنى به باب: ان کنیتوں کا بیان جن کا رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 19325
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مِلَاسٍ النُّمَيْرِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: نَادَى رَجُلٌ بِالْبَقِيعِ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا عَنَيْتُ فُلَانًا، فَقَالَ: " سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَأَبِي كُرَيْبٍ عَنْ مَرْوَانَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے بقیع میں «أَبُو الْقَاسِمِ» ”ابو القاسم“ کہہ کر آواز دی تو رسول اللہ ﷺ نے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں کو آواز دی ہے، آپ ﷺ کو نہیں دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے نام جیسا تم نام رکھ لو لیکن میری کنیت جیسی تم کنیت نہ رکھو۔“