السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يكره أن يتكنى به باب: ان کنیتوں کا بیان جن کا رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 19324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، ح قَالَ: وأنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ: لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لِي قَوْمِي: لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم میں سے کسی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی، اس نے بچے کا نام محمد رکھ دیا تو لوگوں نے کہا: ہم تجھے بچے کا نام محمد نہیں رکھنے دیں گے۔ وہ اپنے بچے کو کمر پر اٹھا کر نبی ﷺ کے پاس لے آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے گھر بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام محمد رکھ دیا تو لوگوں نے مجھے کہا: ہم تجھے چھوڑیں گے نہیں کہ تو نے محمد ﷺ کے نام کے ساتھ نام رکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے نام پر نام رکھ سکتے ہو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو کیونکہ میں «قَاسِمٌ» ہوں، میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا ہوں۔“