السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: تغيير الاسم القبيح وتحويل الاسم إلى ما هو أحسن منه باب: برے نام کو تبدیل کرنے اور اسے بہتر نام سے بدلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19315
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ⦗٥١٧⦘ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اسْمُكَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: حَزْنٌ، قَالَ: " بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ ". قَالَ: " لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي. قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَفِينَا تِلْكَ الْحُزُونَةُ بَعْدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: «حَزْن» ”حزن“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تو «سَهْل» ”سہل“ ہے۔“ انہوں نے کہا: میں اپنے باپ کا رکھا ہوا نام تبدیل نہ کروں گا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کے بعد ہمارے اندر پریشانی ہی رہی۔