السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: تسمية المولود حين يولد وما جاء فيها أصح مما مضى باب: پیدائش کے وقت بچے کا نام رکھنے اور اس بارے میں گزشتہ روایات سے زیادہ صحیح روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 19305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ فِيهِ: وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلِيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میرے گھر بچہ پیدا ہوا جسے میں لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھ کر کھجور سے گھٹی دی اور ابواسامہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے برکت کی دعا کر کے واپس کر دیا اور یہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بڑا بیٹا تھا۔