السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: لا يمس الصبي بشيء من دمها باب: بچے کو عقیقے کے خون میں سے کچھ نہ لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 19290
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ صَاحِبُ ⦗٥١٠⦘ الْحَوْضِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى ". زَادَ الْحَوْضِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ صُوفَةً مِنْهَا فَاسْتَقْبِلْ بِهَا أَوْدَاجَهَا، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى تَسِيلَ مِثْلَ الْخَيْطِ، ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ وَيُحْلَقُ بَعْدُ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ہر بچہ عقیقہ کے عوض گروی رکھا جاتا ہے تو ساتویں دن اس کا سر مونڈ کر خون لگا دیا جائے۔“ حوضی کی روایت میں زیادتی ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ سے خون لگانے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عقیقہ کے جانور کو ذبح کر کے اس کی رگوں سے خون لے کر بچے کے سر کی چوٹی پر خون لگائیں کہ دھاگے کی لکیر کی مانند خون بہہ جائے۔ پھر سر دھو کر مونڈ دیا جائے۔