السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يستدل به على أن العقيقة على الاختيار لا على الوجوب باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ اختیاری ہے، واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19275
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ ". وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ". ⦗٥٠٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِذَا انْضَمَّ إِلَى الْأَوَّلِ قَوِيَا، وَقَدْ عَلَّقَ فِيهِمَا ذَلِكَ بِمَحَبَّتِهِ.حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں «الْعُقُوقَ» (عقوق) کو ناپسند کرتا ہوں۔“ گویا کہ آپ ﷺ نے عقیقہ کے نام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو وہ اپنے بچے کی جانب سے جانور ذبح کرنا چاہے تو کرلے۔“