السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: من قال: الأضحى جائز يوم النحر وأيام منى كلها لأنها أيام النسك باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”قربانی یوم النحر اور منیٰ کے تمام ایام میں جائز ہے کیونکہ یہ سب قربانی (نسک) کے دن ہیں“۔
حدیث نمبر: 19246
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ الصَّدَفِيِّ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا سَوَاءٌ قَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَوَاءٌ قَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، جَمِيعًا غَيْرُ مَحْفُوظَيْنِ لَا يَرْوِيهُمَا غَيْرُ الصَّدَفِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالصَّدَفِيُّ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
یہی روایت صدفی کے واسطے سے بھی مروی ہے، اس میں انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا ہے۔
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: خواہ وہ ”زہری عن سعید عن ابی ہریرہ“ کہیں یا ”زہری عن ابن المسیب عن ابی سعید“، دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں، انہیں صدفی کے سوا کوئی روایت نہیں کرتا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صدفی ضعیف ہے، اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔