السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: من قال: الأضحى جائز يوم النحر وأيام منى كلها لأنها أيام النسك باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”قربانی یوم النحر اور منیٰ کے تمام ایام میں جائز ہے کیونکہ یہ سب قربانی (نسک) کے دن ہیں“۔
حدیث نمبر: 19241
وَقَدْ رُوِيَ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَرَفَاتٌ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ، وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ. وَرَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ النَّقْلِ عَنْ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
یہ روایت عبدالرحمن بن ابی حسین کے واسطے سے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور وادی عرنہ سے ہٹ جاؤ، اور تمام مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور وادی محسر سے ہٹ جاؤ، اور منیٰ کے تمام راستے ذبح کی جگہ ہیں، اور ایامِ تشریق کے تمام دنوں میں ذبح ہے۔“
اسے سوید بن عبدالعزیز نے سعید سے روایت کیا ہے، اور وہ بعض محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔