السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرخصة في الأكل من لحوم الضحايا والإطعام والادخار باب: قربانی کے گوشت میں سے خود کھانے، دوسروں کو کھلانے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19208
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لَحْمِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا "، فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا. قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَالَ جَابِرٌ: حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ. قَالَ: لَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَقَالَ: نَعَمْ بَدَلَ قَوْلِهِ لَا. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ يَحْيَى، كَمَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ.حافظ ثناء اللہ
عطاء نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم اپنے قربانی کے اونٹوں کا گوشت تین دن سے زائد نہ کھاتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رخصت دے دی اور فرمایا: ”کھاؤ اور زادِ راہ لو۔“ ہم نے کھایا اور زادِ راہ لیا۔ میں نے عطاء سے کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ انہوں نے فرمایا: «لَا» ”نہیں۔“ اور دوسری روایت میں یحییٰ قطان فرماتے ہیں کہ لفظ «لَا» کی جگہ «نَعَمْ» ”ہاں“ ہے۔