حدیث نمبر: 19207
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

عطاء نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن سے زائد نہ کھاتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رخصت دے دی اور فرمایا: ”کھاؤ اور زادِ راہ لو۔“ ہم نے کھایا اور ذخیرہ کیا۔ میں نے عطاء سے کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ انہوں نے فرمایا: «لَا» ”نہیں۔“ اور دوسری روایت میں یحییٰ قطان فرماتے ہیں کہ لفظ «لَا» کی جگہ «نَعَمْ» ”ہاں“ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19207
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»