السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يشتري أضحية وهي تامة ثم عرض لها نقص وبلغت المنسك باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا مکمل (بے عیب) جانور خریدے، پھر اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے اور وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 19192
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ حَذْفٍ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ يَسُوقُ بَقَرَةً مَعَهَا وَلَدُهَا، فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا أُضَحِّي بِهَا وَإِنَّهَا وَلَدَتْ. قَالَ: فَلَا تَشْرَبْ مِنْ لَبَنِهَا إِلَّا فَضْلًا عَنْ وَلَدِهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَانْحَرْهَا هِيَ وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ.حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن حذف عبسی فرماتے ہیں: ہم رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمدان کا ایک شخص آیا، وہ ایک گائے اور اس کے بچے کو ہانک رہا تھا، پھر کہنے لگا: میں نے اسے قربانی کے لیے خریدا تھا پھر اس نے بچہ جن دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کا دودھ صرف اتنا ہی پی سکتے ہو جو بچے سے زائد رہ جائے، جب قربانی کا دن آئے گا تو اسے اور اس کے بچے کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کر دینا۔