السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صحة الصلاة مع ترك الأذان والإقامة أو ترك أحدهما باب: اذان اور اقامت یا ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دینے کے باوجود نماز کے صحیح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ قَدْ أُقِيمَتْ فِيهِ الصَّلَاةُ أَجْزَأَتْهُ إِقَامَتُهُمْ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَالشَّعْبِيُّ وَالنَّخَعِيُّ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جس نے مسجد میں نماز پڑھی جس میں نماز کی اقامت کہی گئی تو ان کو اقامت کافی ہے۔