السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صحة الصلاة مع ترك الأذان والإقامة أو ترك أحدهما باب: اذان اور اقامت یا ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دینے کے باوجود نماز کے صحیح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1916
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَامْشُوا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " ⦗٥٩٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَنْ أَدْرَكَ آخِرَ الصَّلَاةِ فَقَدْ فَاتَهُ أَنْ يَحْضُرَ أَذَانًا وَإِقَامَةً وَلَمْ يُؤَذِّنْ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يَقُمْ وَلَمْ أَعْلَمُ مُخَالِفًا أَنَّهُ إِذَا جَاءَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ مِنَ الصَّلَاةِ كَانَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کردی جائے تو تم چلو اس حال میں کہ تم پر سکینت اور وقار ہو، جو تم پالو اس کو پڑھ لو اور جو فوت ہوجائے اس کو مکمل کرو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو نماز کے آخر میں آیا تو وہ اپنی اذان، اقامت میں شامل ہونے سے رہ گیا۔ اب وہ اپنے لیے اذان اور اقامت نہیں کہے گا۔ میرے علم کے مطابق مسئلہ اس طرح ہے کہ کوئی شخص مسجد میں آئے اور امام نماز پڑھا کر نکل رہا ہو تو وہ بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھے۔