السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الذكاة بالحديد وبما يكون أخف على المذكي وما يستحب من حد الشفار ومواراته عن البهيمة وإراحتها باب: لوہے اور اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو ذبح ہونے والے جانور کے لیے زیادہ آسان ہو، نیز چھریوں کو تیز کرنے، اسے جانور سے چھپانے اور جانور کو آرام پہنچانے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِزْمَوَيْهِ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ النَّسَوِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي ⦗٤٧١⦘ قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَيْنِ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دو خصلتیں نبی ﷺ سے یاد کیں کہ: ”اللہ رب العزت نے ہر چیز کے اوپر احسان کو لکھ دیا ہے۔ جب تم قتل کرو یا ذبح کرو تو احسن انداز سے اور اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو، تاکہ ذبح ہونے والے جانور کو راحت دی جا سکے۔“