حدیث نمبر: 19112
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ⦗٤٦٤⦘ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ مَنْسَكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ دِينَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَهَنَّادٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز ادا کی اور اس کے بعد قربانی ذبح کی، اس نے قربانی کر دی اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کی تو یہ گوشت والی بکری ہے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز کی جانب آنے سے پہلے ہی قربانی کر دی۔ کیونکہ میں یہ جانتا تھا کہ یہ دن کھانے پینے کا ہے، میں نے جلدی کی تو میں نے خود بھی اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو بھی کھلایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ گوشت کی بکری ہے۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے پاس بکری کا جذعہ جو مسنہ دو بکریوں سے بھی زیادہ بہتر ہے، کیا یہ مجھ سے کفایت کر جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری جانب سے کفایت کر جائے گا لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19112
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»