السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أفضل الضحايا باب: بہترین قربانی کے جانوروں کے متعلق کیا مروی ہے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا كَانَتِ الضَّحَايَا إِنَّمَا هُوَ دَمٌ يُتَقَرَّبُ بِهِ فَخَيْرُ الدِّمَاءِ أَحَبُّ إِلِيَّ، وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ} [الحج: 32] اسْتِسْمَانُ الْهَدْيِ وَاسْتِحْسَانُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: " أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب قربانیاں محض ایک خون ہیں جس کے ذریعے (اللہ کا) قرب حاصل کیا جاتا ہے، تو بہترین خون (یعنی عمدہ جانور) مجھے زیادہ پسند ہے، اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ﴾ ’یہ (حکم) ہے، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے۔‘ [سورة الحج: 32] سے مراد قربانی کے جانور کو فربہ (موٹا تازہ) اور عمدہ بنانا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا غلام (آزاد کرنا) افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’جو قیمت میں سب سے مہنگا ہو اور اپنے مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ نفیس (اور پسندیدہ) ہو۔‘“...
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ". قُلْتُ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے پوچھا: کون سی قربانی افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی قیمت زیادہ ہو اور گھر والوں کے نزدیک پسندیدہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاریگر کی مدد کر یا جاہل کو کاریگر بنا دے۔“ میں نے کہا: اگر یہ نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، اس کے ذریعے اپنے اوپر صدقہ کرو۔“