السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: سنة لمن أراد أن يضحي أن لا يأخذ من شعره ولا من ظفره إذا أهل هلال ذي الحجة حتى يضحي باب: جو شخص قربانی کا ارادہ رکھے اس کے لیے سنت یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ اخْتِيَارٌ لَا وَاجِبٌ؟ يَعْنِي الْأَخْذَ مِنَ الشَّعْرِ وَالظُّفُرِ، قِيلَ لَهُ: رَوَى مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّ اللهُ لَهُ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي هَذِهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا وَصَفْتُ، وَعَلَى أَنَّ الْمَرْءَ لَا يُحْرِمُ بِالْبِعْثَةِ بِهَدْيِهِ، يَقُولُ: الْبِعْثَةُ بِالْهَدْيِ أَكْثَرُ مِنْ إِرَادَةِ الضَّحِيَّةِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی کہنے والا کہے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ (بال اور ناخن نہ کاٹنا) اختیاری ہے، واجب نہیں؟ تو اسے جواب دیا جائے گا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے قلادے میں اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر رسول اللہ ﷺ قلادے پہنا کر میرے والد کے ساتھ قربانیاں روانہ کر دیتے، رسول اللہ ﷺ پر کوئی چیز حرام نہ ہوتی یہاں تک کہ قربانی نحر کر دی جاتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں اس بات کی دلیل ہے جو میں نے بیان کی، اور یہ کہ انسان صرف قربانی روانہ کرنے کی وجہ سے محرم نہیں قرار پاتا، اور قربانی کا جانور روانہ کرنا قربانی کے محض ارادے سے بڑھ کر ہے۔