السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: سنة لمن أراد أن يضحي أن لا يأخذ من شعره ولا من ظفره إذا أهل هلال ذي الحجة حتى يضحي باب: جو شخص قربانی کا ارادہ رکھے اس کے لیے سنت یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
حدیث نمبر: 19043
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ، قَالَ: كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قَبْلَ الْأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ أُنَاسٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ، بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا وَيَنْهَى عَنْهُ، فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ⦗٤٤٧⦘ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ ذَبْحٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ فَإِذَا أَهَلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا ظُفُرِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ وَأَبِي أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مُعَاذٌ: عُمَرُ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ: عَمْرٌو، وَسَاقَ أَبُو أُسَامَةَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا.حافظ ثناء اللہ
عمر بن مسلم بن عمارہ بن اکیمہ کہتے ہیں کہ ہم قربانی سے پہلے حمام میں تھے، وہاں کچھ لوگوں نے بال صفا لیپ لگایا تو حمام والوں میں سے کسی نے کہا: سعید بن مسیب اسے ناپسند کرتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں۔ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! یہ ایسی حدیث ہے جو بھلا دی گئی اور چھوڑ دی گئی ہے، مجھے نبی ﷺ کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی موجود ہو اور وہ قربانی کرنا چاہتا ہو تو جب وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے تو قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے۔“