حدیث نمبر: 19
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا خَارِجَةُ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: " دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْفَتْحِ ضُحًى، فَأَمَرَ بِمَاءٍ فَسُكِبَ لَهُ فِي قَصْعَةٍ كَأَنِّي أَرَى أَثَرَ الْعَجِينِ فِيهَا وَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاغْتَسَلَ، وَصَلَّى صَلَاةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت آئی۔ آپ ﷺ نے پانی لانے کا حکم دیا، میں نے اس برتن میں آٹے کے نشانات دیکھے جس میں آپ ﷺ کے لیے پانی رکھا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے کپڑا لانے کا حکم دیا، اس (کپڑے) کے ساتھ میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکایا، پھر غسل کیا اور چاشت کی آٹھ رکعتیں ادا کیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 19
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسناد
تخریج حدیث «منكر الاسناد۔ هذا اسناد منكر جدًا۔ فيه خارجة بن مصعب»