❮
❯
حدیث نمبر: 18
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا أَبُو صَالِحٍ، نا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرَتْ قِصَّةَ الْفَتْحِ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى وَجْهِهِ رِيحُ الْغُبَارِ فَقَالَ: " يَا فَاطِمَةُ اسْكُبِي لِي غُسْلًا ". فَسَكَبَتْ لَهُ فِي جَفْنَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، وَسَتَرَتْ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ، وَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ⦗١٣⦘ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَالَّذِي رَوَيْنَاهُ مَعَ إِرْسَالِهِ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے فتح (مکہ) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے چہرے پر گرد پڑی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! میرے نہانے کے لیے پانی رکھو۔“ انہوں نے ایک بڑے برتن میں جس میں آٹے کے نشانات تھے پانی رکھا اور آپ ﷺ کے لیے پردہ کیا۔ آپ ﷺ نے غسل کیا اور آٹھ رکعت نماز پڑھی۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ (یہ روایت) مجاہد سے، وہ ابو فاختہ سے اور وہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے (مروی ہے)، اور جو ہم نے روایت کی ہے وہ مرسل ہونے کے باوجود زیادہ صحیح ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي في مسنده 331»