السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للفائتة باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1898
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ فِي سَفَرٍ فَنَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى اسْتَعْلَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ ﷺ نماز سے سو گئے، حتی کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے انتظار کیا یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھائی۔