السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للفائتة باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْنَا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَنَا فَقَالَ: " لَا ضَيْرَ أَوْ لَا ضَرَرَ " شَكَّ عَوْفٌ فَقَالَ: " ارْتَحِلُوا " فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ وَنَادَى بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ عَوْفٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور انہوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی اور فرمایا کہ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو ہم نے اس کی شکایت کی جو ہمیں پہنچی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں ہے“ (عوف کو شک ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے خیر کے الفاظ بولے ہیں یا ضرر کے)۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں سے کوچ کرو“ اور آپ ﷺ خود بھی سوار ہوئے اور چل پڑے لیکن تھوڑی دور چلنے کے بعد آپ ﷺ اترے اور پانی منگوایا، لوگوں کو نماز کے لیے پکارا گیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔