حدیث نمبر: 18972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَزَوْنَا فَجُعْنَا حَتَّى إِنَّ الْجَيْشَ يَقْتَسِمُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ إِذْ رَمَى بِحُوتٍ مَيْتٍ فَاقْتَطَعَ النَّاسُ مِنْهُ مَا شَاءُوا مِنْ لَحْمِهِ أَوْ شَحْمِهِ وَهُوَ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَبَلَغَنِي أَنَّ النَّاسَ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ: " أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ "؟.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم جہاد کے لیے نکلے تو سخت بھوک محسوس ہوئی، یہاں تک کہ لشکر میں ایک یا دو دو کھجوریں تقسیم کی جاتیں۔ اس دوران ہم سمندر کے کنارے پر تھے۔ جب سمندر نے مردہ مچھلی باہر پھینک دی تو لوگوں نے اس کا گوشت یا چربی جتنا چاہا کاٹ لیا۔ وہ مچھلی ایک ٹیلے کی مانند تھی۔ مجھے پتا چلا کہ لوگوں نے جب آ کر رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ موجود ہے؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18972
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»