السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الصيد يرمى فيقع على جبل ثم يتردى منه أو يقع في الماء باب: اس شکار کا بیان جسے تیر مارا جائے اور وہ پہاڑ پر گرے، پھر وہاں سے لڑھک جائے، یا پانی میں جا گرے۔
حدیث نمبر: 18942
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ صَيْدًا فَتَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلُوا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ التَّرَدِّي قَتَلَهُ أَوْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْمَاءُ قَتَلَهُ.حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کرو اور وہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ، ممکن ہے وہ پہاڑ سے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو، اگر پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تب بھی نہ کھاؤ، کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ پانی کی وجہ سے قتل ہوا۔