السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما يذكى به باب: جس چیز کے ذریعے ذبح کیا جا سکتا ہے اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ ⦗٤١٥⦘ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا ولَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنُذَكِّي بِاللِّيطِ؟ فَقَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلُوا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ظُفُرٍ أَوْ سِنٍّ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الْإِنْسَانِ وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشِ". قَالَ: وَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَكُنَّا نَعْدِلُ الْبَعِيرَ بِعَشْرٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَضْنَاهُ. قَالَ: فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا نَدَّ مِنْهَا شَيْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ ذَلِكَ وَكُلُوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کل دشمن سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم کسی لکڑی سے ذبح کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا گیا ہو تو کھالو، لیکن جو ناخن، دانت سے ذبح کیا گیا ہو نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسانی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں اور ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر تھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا جسے تیر مار کر روکا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض اونٹ جنگلی جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو اور کھالو۔“