السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في ذكاة ما لا يقدر على ذبحه إلا برمي أو سلاح باب: اس جانور کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان جسے تیر مارنے یا ہتھیار کے بغیر ذبح کرنا ممکن نہ ہو۔
حدیث نمبر: 18934
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ غَضْبَانَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ النَّاسُ الْكُوفَةَ فَأَعْرَسَ رَجُلٌ مِنَ الْحِيِّ فَاشْتَرَى جَزُورًا فَنَدَّتْ فَذَهَبَتْ ثُمَّ اشْتَرَى أُخْرَى فَخَشِيَ أَنْ تَنِدَّ فَعَرْقَبَهَا وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَمَاتَتْ، فَأَتَوْا عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا، فَوَاللهِ مَا طَابَتْ أَنْفُسُ الْحِيِّ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى جَعَلُوا لَهُ مِنْهَا بِضْعَةً، ثُمَّ أَتَوْهُ بِهَا فَأَكَلَ، وَرَجَعَ الْحِيُّ إِلَى طَعَامِهِمْ فَأَكَلُوا.حافظ ثناء اللہ
غضبان یعنی ابن یزید بجلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ کوفہ آئے، وہاں محلی (قبیلے) کے ایک شخص نے پڑاؤ کیا اور ایک اونٹنی خریدی، وہ بھاگ گئی۔ پھر اس نے دوسری خریدی تو اس کے بھاگ جانے کے ڈر سے اللہ کا نام لیا اور وہ مر گئی، تو انہوں نے آ کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے اسے کھانے کا حکم دیا، لیکن قبیلے کے لوگ اس وقت تک کھانے پر تیار نہ ہوئے جب تک اس کا ایک ٹکڑا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس نہ لائے، جب انہوں نے اسے کھا لیا تو قبیلے کے لوگ بھی اسے کھانے پر تیار ہو گئے۔