حدیث نمبر: 18912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي. قَالَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ ". قَالَ: ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ؟ قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي؟ قَالَ: " وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ سَهْمِكَ ". قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْتُ إِلَيْهَا. قَالَ: " اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کو ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میرے قوس کے بارے میں فتویٰ دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرا تیر واپس کر دے کھا لے۔“ اس نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے؟ پھر اس نے کہا: اگر وہ مجھ سے غائب ہی رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ تجھ سے غائب رہے جب تک خراب نہ ہو یا کسی دوسرے تیر کا نشان نہ دیکھیں۔“ اس نے کہا: مجوس کے برتنوں کے بارے میں فتویٰ دیں، کیا وہ مجبوری کے وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دھو کر استعمال کر لو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18912
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»