السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18909
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُهُ مِنَ الْغَدِ فِيهِ سَهْمِي. قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ قَتَلَهُ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ فَكُلْ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں شکار کرتا ہوں اور صبح کے وقت میں اپنا تیر شکار میں پاتا ہوں۔ فرمایا: ”جب تو اپنا تیر شکار میں پائے اور تجھے اس کے قتل کا یقین ہو اور کسی درندے کا نشان بھی اس میں نہ دیکھے تو کھالو۔“