السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: من ترك التسمية وهو ممن تحل ذبيحته باب: اس شخص کا بیان جس نے بسم اللہ چھوڑ دی حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ذبیحہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 18891
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيمَنْ ذَبَحَ وَنَسِيَ التَّسْمِيَةَ قَالَ: " الْمُسْلِمُ فِيهِ اسْمُ اللهِ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ التَّسْمِيَةَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس شخص کو ذبح کے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھنا یاد نہ رہا، انہوں نے فرمایا کہ مسلمان کے اندر اللہ کا نام ہے اگرچہ اس نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ نہیں بھی پڑھی۔