السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: من ترك التسمية وهو ممن تحل ذبيحته باب: اس شخص کا بیان جس نے بسم اللہ چھوڑ دی حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ذبیحہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 18890
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٌ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْلِمُ يَكْفِيهِ اسْمُهُ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ حِينَ يَذْبَحُ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ وَلْيَأْكُلْهُ ". كَذَا رَوَاهُ مَرْفُوعًا، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَيْنٍ وَهُوَ عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”مسلمان کے لیے اللہ کا نام ہی کافی ہے۔ اگر وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر کھالے (یعنی بسم اللہ پڑھ کر کھالے)۔“