السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
(إذا قتل الكلبُ المُعَلَّمُ الصيدَ، فإنه يجوز أكلُه) باب: سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 18878
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيَحْتَمِلُ الْقِيَاسُ أَنْ يَأْكُلَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ الْكَلْبُ، وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَإِنَّمَا تَرَكْنَا هَذَا لِلْأَثَرِ الَّذِي ذَكَرَ الشَّعْبِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ ". وَإِذَا ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجُزْ تَرْكُهُ لِشَيْءٍ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قیاس کا تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ شکار کھا لیا جائے اگرچہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اور ہمارے بعض اصحاب کا قول ہے، ہم نے اسے صرف اس اثر کی وجہ سے چھوڑا ہے جو شعبی نے ذکر کیا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر کتا شکار سے کھالے تو شکار مت کھاؤ۔“ جب یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہے تو اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے۔