السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
(إذا قتل الكلبُ المُعَلَّمُ الصيدَ، فإنه يجوز أكلُه) باب: سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 18876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ہم کتوں سے شکار کرنے والے لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے، اگر کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لو، اگر کتا شکار کو قتل کر کے شکار سے کچھ کھا لے تو پھر آپ شکار کو نہ کھائیں؛ کیونکہ ممکن ہے اس نے اپنے لیے شکار کیا ہو، اور اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں تب بھی نہ کھائیں۔“