السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: كراهية الدخول على أهل الذمة في كنائسهم والتشبه بهم يوم نيروزهم ومهرجانهم باب: ذمیوں کے گرجا گھروں میں ان کے پاس جانے اور ان کے نیروز اور مہرجان (تہواروں) کے دن ان کی مشابہت اختیار کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهَدِيَّةِ النَّيْرُوزِ فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا يَوْمُ النَّيْرُوزِ، قَالَ: فَاصْنَعُوا كُلَّ يَوْمٍ فَيْرُوزَ. قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: كَرِهَ أَنْ يَقُولَ نَيْرُوزَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي هَذَا كَالْكَرَاهَةِ لِتَخْصِيصِ يَوْمٍ بِذَلِكَ لَمْ يَجْعَلْهُ الشَّرْعُ مَخْصُوصًا بِهِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تہوار والے دن تحفے لائے گئے تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ تہوار کا دن ہے۔ انہوں نے فرمایا: تم ہر دن کو «فَيْرِزُوا» ”فیروز“ بنا لو، تو ابو اسامہ نے کہا: انہوں نے «النَّيْرُوزُ» ”نیروز“ کہنا بھی پسند نہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں کہ صرف ان کا کسی ایک دن کو مخصوص کرنے کی وجہ سے تھا کیونکہ شریعت نے اس کو مخصوص نہ کیا تھا۔