السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للجمع بين الصلاتين باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ أَحَدَهُمَا صَحِبَ عُمَرَ وَالْآخَرَ صَحِبَ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ، عَنْهُمَا فَذَكَرَا، عَنْهُمَا أَنَّهُمَا لَمْ يُصَلِّيَا الْمَغْرِبَ حَتَّى نَزَلَا جَمْعًا فَصَلَّيَا الْمَغْرِبَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ تَمَشَّيَا ثُمَّ صَلَّيَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
اسود اور عبد الرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور دوسرا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ دونوں نے ذکر کیا کہ ان دونوں حضرات نے عشا کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ مزدلفہ میں پڑاؤ ڈالا، پھر انہوں نے ایک اذان اور ایک اقامت سے مغرب کی نماز پڑھی، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر دونوں نے ایک اذان اور ایک اقامت سے (عشا کی) نماز پڑھی۔