السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للجمع بين الصلاتين باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1882
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ مِنْ أَصْلِهِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ خَالِدٍ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مالک ازدی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ جگہ پر مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں۔ انہیں مالک بن خالد نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جگہ پر ایک اقامت کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔