السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نزول سورة الفتح على رسول الله صلى الله عليه وسلم مرجعه من الحديبية باب: حدیبیہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ پر سورۃ الفتح کے نزول کا بیان۔
حدیث نمبر: 18815
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فِينَا فَتْحًا، وَنَعُدُّ نَحْنُ الْفَتْحَ ⦗٣٧٤⦘ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، نَزَلْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهِيَ بِئْرٌ، فَوَجَدْنَا النَّاسَ قَدْ نَزَحُوهَا فَلَمْ يَدَعُوا فِيهَا قَطْرَةً، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِدَلْوٍ فَنَزَعَ مِنْهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ فَمَجَّهُ فِيهَا، وَدَعَا اللهَ فَكَثُرَ مَاؤُهَا حَتَّى صَدَرْنَا وَرَكَائِبُنَا، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم فتحِ مکہ کو عظیم فتح شمار کرتے ہو، جبکہ ہمارے نزدیک فتحِ مکہ عام فتح ہے، لیکن صلح حدیبیہ کی فتح عظیم تھی؛ حدیبیہ کے مقام پر ایک کنواں تھا جس کا لوگوں نے پانی نکال کر ختم کر دیا تھا۔ جب نبی ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ کنویں کے کنارے پر آئے، پانی کا ڈول نکالا، پھر کچھ پانی لے کر کنویں میں کلی کر دی اور اللہ سے دعا کی تو پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ ہم نے سیر ہو کر پیا اور سواریوں کو پلایا اور ہماری تعداد چودہ سو تھی۔